55

ماضی اور مستقبل.تحریر کاشف موہل

سر سے زرا سا کمبل ہٹا کرایک آنکھ ہلکی سی کھولے وہ چوری چوری کھڑکی سے آنے والی تیز دھوپ کو ایسے دیکھ رہا تھا کہ کہیں سورج کرنیں اسے دیکھ نہ لیں۔ جو کھڑکی میں لگے شیشے کو چیرتی ہوئی کمرے کے فرش پہ پڑ رہی تھیں۔
آج وہ پہلے کی نسبت کافی تازہ دم دکھائی دے رہا تھا اسے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ بخار سے جو پتھر اس کے سر پہ رکھا گیا تھا وہ کسی نے سوتے ہوئے اس کے سر سے اتار دیا ہو۔
کچھ دیر بعد اس نے کمبل کو آنکھوں سے اس انداز میں ہٹایا کہ جیسے کرنوں نے اس کی چوری پکڑ لی ہو۔ حسب معمول آج بھی اس کی ویل چیئر بیڈ کے پاس ہی موجود تھی۔ جس پر وہ آسانی سے اپنی مدد آپ بیٹھ جایا کرتا تھا۔ کہنے کو تو یہ ویل چیئر تھی لیکن اس کے جیسی ویل چیئر اگر سٹیفن ہاکنگ کے پاس ہوتی تو اس کی سائنسی تحقیات کہیں زیادہ ہوتیں۔ چاند اور مارس کی طرح باقی سیاروں پر بھی لوگ آباد ہوتے۔وہ یہ بات اپنے ماں باپ سے گفتگو کے دوران اکثر فخریہ انداز میں کہتے نہ تھکتا تھا۔
تازہ دم ہونے کے بعد وہ کھانے کی میز پر اپنے ماں باپ سے خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ مراد اور ہمنا اکثر اس کی باتوں سے حیران ہوجاتے تھے۔ لیکن کبھی کھبی اس کی باتیں انھیں پریشانی میں مبتلا کردیتی تھیں۔ جس کی وجہ دس سال کی عمر میں اس کی پرانی چیزوں کیو کھوجنے کی جستجو اُس عمر کے بچو سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ آثار قدیمہ ڈھونڈنے والے افراد کی مانند دنیا کے کونے کونے سے نت نئی تہذیب جو صدیوں پہلے دفن ہوچکی تھیں۔ نکال کر دنیا کو حیران کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کی دنیا تو دادا ا بو کا گھر سے ملحقہ وہ پرانا سٹور تھا جس میں پچھلے چند دنوں سے وہ نئی تہذیب ڈھونڈنے کے چکر میں بیمار پڑ چکا تھا۔
مراد اور ہمنا کھانا ختم کرتے ہی اس کے رخساروں کو گیلا کرتے اپنے دفتروں کو چل دیئے۔گھر میں وہ اور اس کی ساتھی ویل چئیر تھے۔
اس کی ویل چیئر ایک ماہر نجومی کی مانند اسکا مائنڈ ریڈ کرتے ہوئے اس کو دادا ابو کے سٹور کی جانب لے گئی۔ کہنے کو تو یہ ایک ویل چیئر تھی لیکن اس میں ویل سرے سے تھے ہی نہیں۔ سومنات کے بت کی طرح ہر وقت ہوا میں معلق آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا کمال شاہکار تھی ۔ جو تنزیل کو اسکی دسویں سالگرہ کے موقع پر خالہ سے تحفہ میں ملی تھی۔ جس پر بیٹھ کر تنزیل گھر کے ہر کونے میں باآسانی جا سکتا تھا۔ لیکن گھر کی حدود سے باہر نکلنا اس کی پروگرامنگ میں شامل نہ تھا۔ جس کا دکھ اکثر تنزیل کو رہتا تھا۔
سٹور کے قریب پہنچتے ہی دروازہ خودبخود کھل گیا ۔دادا جی کا سٹور کسی میوزیم سے کم نہ تھا۔ جس میں اکیسوی صدی اور اس سے پہلے ایجاد ہونے والی اکثر چیزیں ہاتھی کے دانتوں کی مانند تھیں جو صرف دیکھنے کے کام آتے ہیں۔ چلتی تو شاید وہ دادا کے دور میں بھی نہ تھیں۔
سٹور میں دفن دادا کے خزانوں کی کھدائی میں پچھلے چند گھنٹوں سے و ہ پوری طرح مگن تھا کہ اس کی نظر ایک ڈبے پر پڑی جسے وہ اکثر نظر انداز کر دیتا تھا۔ لیکن آج اس کاایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔ بظاہر بوسیدہ نظر آنے والے اس ڈبے کو جب اس نے کھولا تو اسے اکیسوی صدی میں ایجاد ہونے ہولے ہولوگرام کی ایک ڈیوائس نظر آئی جسے کمال مہارت سے پیک کر کے اس ڈبے میں رکھا گیا تھا۔ ڈیوائس کی ظاہری حالت سے لگتا تھا کہ یہ چلنے کے قابل ہے۔ لیکن ابھی ایسا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ گھر میں موجود تمام برقی آلات وائر لیس تھے ۔ جبکہ ہولوگرام پرانی ٹیکنالوجی کا ہونے کی وجہ سے وائرڈ تھا۔ اب اسے چلانے کے لئے کچھ کیا جاسکتا تو وہ تھا انتظار۔ ابو کے آنے کا جوکہ تنذیل بڑی بے صبری سے کئے جا رھا تھا۔
آج وقت جیسے رک سا گیا تھا۔ ایک گھنٹے کا انتظار صدیوں پہ بھاری تھا۔ طویل انتظار نے نئی کھوج کی خوشی کو اداسی میں بدل دیا تھا۔ تنزیل اپنی سوچو ں میں مگن تھا۔ کہ اچانک ابھرتے ہوئے خیال نے اداسی کے بادلوں میں قید خوشی کی کرن کو آزاد کردیا۔ تنزیل ویڈیو لنک پہ ابو کو کال ملانے لگا۔ ایک کال ، دوسری کال اور پھر تیسری کال لیکن جواب موصول نہ ہوا۔ خوشی کی عارضی لہر سردی کے موسم میں نکلنے والے سورج کی طرح پھر سے غائب ہوگئی۔ اداسی کی چادر اوڑھے نیند کی آغوش میں وہ کب سوگیا ۔ اسے پتہ ہی نہ چلا۔جب آنکھ کھلی تو ابو کی کالز کی ایک لمبی فہرست آنکھوں کے سامنے تھی۔ فوراً ہی کال بیک کی۔ ابھی پہلی بیل ہی نہ بجی تھی کہ پریشانی کے سمندر میں ڈوبی مراد کی آواز تنزیل کے کانوں پر پڑی۔
’’بیٹا سب ٹھیک تو ہے نہ۔ کتنی کالز کی آپ کو آپ کال اٹھا کیوں نہیں رہے تھے۔ آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے نہ۔ ‘‘ مراد نے یکے بعد دیگرے کئی سوال داغ دئے۔
’’سوری ابو۔۔! آپ کی کال کے انتظار میں کب آنکھ لگ گئی پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘ تنزیل نے جواب دیا۔
’’بیٹا خیریت تو تھی ۔ کس لئے کال کی آپ نے؟‘‘ مراد کی پریشانی ابھی تک کم نہ ہوئی تھی۔ تنزیل نے پہلے کبھی ایسے مسلسل کالز نہیں کی تھیں۔
ابو ایک چیز منگوانی تھی۔ آپ لے آئیں گے؟
کیا لینا ہے بیٹا؟
نہیں پہلے آپ وعدہ کریں لے آئیں گے؟
بیٹا لے آوں گا ۔ آپ بتائیں تو سہی۔
نہیں پہلے آپ وعدہ کریں آپ ضرور لائیں گے۔
اچھا بابا وعدہ کرتا ہوں۔ اب بتاو بھی کیا لینا ہے۔
ابو آپ وائرلیس ٹو وائر کنورٹر لے آئیں گے۔ پلیز۔۔۔!
آپ پھر سے سٹور میں گئے ہیں نہ۔ روکا بھی تھا آپ کو۔
ابو اب ڈانٹیں تو نہیں۔ آپ کنورٹر لے آئیں گے نہ۔ آپ نے وعدہ کیا ہے۔
ہاں بچے ، وعدہ تو یاد ہے ۔ لیکن!
لیکن ویکن کو چھوڑیں آپ بس لا رہے ہیں۔
اچھا ٹھیک ہے میرے باپ لے آؤ گا۔ مگر آفس میں کام زیادہ ہے تو مجھے آنے میں دیر ہوجائے گی۔
ٹھیک ہے ابو۔ میں انتظار کروں گا آپ کے آنے کا۔

’’ہمنا تنزیل کہاں ہے۔‘‘ مراد نے گھر میں داخل ہوتے ہی ہمنا کو مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا۔
’’وہ آپ کی راہ تکتے تکتے سوگیا۔ جب سے میں واپس آئی ہوں ۔ وہ دروازے پر نگاہیں جمائے بے صبری سے آپکے آنے کا انتظار کر تا رہا ہے۔ دن ڈھلتے ہی سوجانے والا آج آپ کے انتظار میں آدھی رات تک جاگتا رہا ہے۔ مگر آپ نے حد ہی کردی تاخیر والی آج تو۔‘‘ہمنا نے مراد کو ڈانٹتے ہوئے تفصیل سے جواب دیا۔
’’آج دفتر میں کام معمول سے زیادہ تھا اس لئے دیر ہوگئی ۔ ‘‘ مراد نے کہا۔
’’چلیں اب سوجائیں رات بہت ہوچکی۔‘‘ ہمنا نے حکم سناتے ہی کمرے کی لائٹ بند کردی۔

کھانا تیار ہوچکا تھا۔ مراد ہاتھ میں ڈیجیٹل پیپر تھامے مارس کی خبروں کوبڑے غور سے پڑھ رہا تھا۔ میز کھانے کے تمام لوازمات سے سج چکی تھی۔ کمی تھی تو بس تنزیل کی۔ جو رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے ابھی تک سو رہا تھا۔
’’آپ کا شہزادہ اٹھا نہیں ابھی ؟‘‘ مراد نے گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے ہمنا سے پوچھا۔
’’ابو میں آپ کا بھی شہزادہ ہوں ۔ صرف امی کا نہیں۔‘‘ تنزیل کسی شہزادے کی مانند اپنی شاہی سواری پر سوار کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔
مراد کی گردن فوراً ہی دورازے کی جانب گھومی اور وہ مسکراکر تنزیل کی جانب دیکھنے لگا۔
’’ابو میں نے کچھ لانے کو کہا تھا۔‘‘ تنزیل نے باپ سے کنورٹر بارے دریافت کیا۔
’’کیا بیٹا؟ مجھے تو کچھ نہیں یاد۔‘‘ مراد نے جواب دیا۔
’’ابو آپ کیسے بھول سکتے ہیں۔ آپ نے وعدہ کیا تھا مجھ سے۔‘‘ قریب ہی تھا کہ تنزیل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔
’’کیوں بچے کو صبح صبح رُلا رہے ہیں۔ ‘‘ ہمنا مراد کو ڈانٹتے ہوئے بولی۔
’’میں بھلا کیسے بھول سکتا تھا۔ آپ کھانا کھا لیں پھر امی آپ کو اٹھا کر دیتی ہے آپ کا کنورٹر۔‘‘ مراد نے شفقت بھرے انداز میں تنزیل سے کہا۔

تینوں ناشتے سے فارغ ہوچکے تھے۔ مراد اور ہمنا تنزیل کو کنورٹر کے استعمال میں احتیاط برتنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنے اپنے دفتر روانہ ہوچکے تھے۔ تنزیل کنورٹر اٹھائے اپنی ویل چیئر پر سوار دادا ابو کے سٹور میں پہنچ چکا تھا۔ کنورٹر سٹور میں پڑی دادا ابو کی ٹیبل پر رکھا تھا۔ جس میں ہولو گرام کی تار لگی ہوئی تھی۔ اور تنزیل کسی ماہر مکینک کی ماندٹیبل پر جھکا ڈیوائس کا جائزہ لے رہا تھا۔ جب مکمل معائنہ ہوچکا تو تنزیل نے ہولوگرام کا پاور بٹن دبایا۔ اور ڈیوائس چلنے لگی۔تنزیل کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔شاید اتنی خوشی کولمبس کو امریکہ دریافت نے کے بعد نہ ہوئی ہوگی جتنی تنزیل کو ڈیواس چلانے کے بعد ہوئی۔ ڈیوائس اندر پرانے وقتوں کی کچھ تصاویرموجود تھیں۔ جن میں وادی کشمیر کے خوبصورت مناظر، بہتے دریا اور پہاڑوں سے پھوٹتے چشمے تھے۔ ان تصاوریر میں ایک ویڈیو بھی موجود تھی۔ ویڈیو شایدپنجاب کے کسی علاقے کی تھی۔ جب پنجاب پانچ دریاوں کی زمین ہوا کرتا تھا۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی۔ حد نگاہ سرسبز درخت اورفصلیں موجود تھیں۔ جس میں تنزیل کی عمر کے بچے پنجاب کے روائیتی کھیلوں میں مگن دکھائی دے رہے تھے۔ تنزیل کے لئے یہ ایک انوکھی بات تھی۔ سرسبز درخت وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ کیوں کہ گھر کی کھڑکی سے تو اسے کبھی ایسا کوئی منظر نظر نہیں آیا تھا۔ یہ ہماری دنیا تو نہیں ہوسکتی۔ ہماری دنیا میں ایسا تو کچھ نہیں ہے۔ یہ زمیں کا خطہ تو نہیں ہو سکتا۔ آخر یہ کونسی جگہ ہے۔
تنزیل کے ذہن میں ہزاروں سوال اٹھ رہے تھے۔ مگر ان کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ وہ بار بار اس ویڈیو کو دیکھ رہا تھا اورمراد کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ تاکہ وہ جان سکے کہ آخر یہ لوگ ہیں کون۔ اور کس دنیا کی ویڈیو ہے یہ۔
شام ڈھل چکی تھی ۔ تنزیل ذہن میں ہزاروں سوال لئے مراد کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ کہ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ تنزیل اپنی ویل چیئر پر سوار تیزی سے دورازے کی جانب بڑھا اور مراد پہ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔ مراد خاموشی سے تنزیل کے سوال سنتا ہواکمرے کی جانب بڑھتا گیا۔ تنزیل بھی اس کے ساتھ ساتھ ویل چیئر پر جا رہا تھا۔ سوالوں کی بارش جیسے ہی تھم چکی تھی ۔ اب تنزیل جواب کا منتظر تھا۔ مراد نے اپنی کمر سے بندھا آکسیجن سیلنڈر اتارتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں بند کیئے بس اتنا ہی کہا ’’ یہ ہمارا ماضی اور مستقبل تھا۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں