63

کیلے کاچھلکا اور عشق

کیلے کاچھلکا اور عشق
میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ہم مسلمان ناموس رسالتؐ پہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ جب شان رسولؐ کا معاملہ ہو تو ہم تن من دھن گھر بیوی بچے یہاں تک کہ ہم ماں باپ تک سب کچھ قربان کرنے پہ تُل جاتے ہیں ہم تو غازی علم دین شہید ہیں ۔ ہم تو ممتاز قادری ہیں ۔ ۔ جب ہم اس قدر عاشق رسولؐ ہیں اور تعداد میں بھی پوری دنیا میں دوسرے یا تیسرے نمبر پہ ہیں ۔ تو اس کے باوجود لوگ شان آقا سرور کائنات والیء دوجہان وجہء کائناتؐ کی شان میں گستاخی کیوں اور کیا سوچ کر کر لیتے ہیں ۔ اس سوال کا جواب مجھے آج ملا ۔
جب میں نے ایک غریب ریہڑی بان بچے کی ریہڑی سے مجاہدین کو زبردستی کیلے اٹھا کر لیجاتے دیکھا ۔ پھر میری سمجھ میں آیا کہ ہماری حقیقت کیا ہے ۔ پھر میری سمجھ میں آیا کہ ممتاز قادری ہونے کی خواہش کرنا غازی علم دین شہید والا مقام پانے کی آرزو کرنا آسان ہے ۔ عملی طور پہ سچا اورپکا عاشق رسول بننا بہت مشکل ہے ۔ پھر مجھے سمجھ آیا کہ کفار شان رسولؐ میں گستاخی کرتے وقت لرزتے کیوں نہیں ۔ کیوں آۓ دن نبی مکرمؐ کے خاکے بنتے اور گستاخانہ فلمیں بنتی ہیں ۔ کیوں آسیہ مسیح جنم لیتی ہے ۔ کیوں اہل ڈنمارک کھلم کھلا گستاخی ءرسولؐ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ہمارے تو قول فعل میں ہی تضاد ہے ۔ ہم تو اپنی شہرت کے بھوکے ہیں ۔ ہمارا تو عشق کیلے دیکھ کر بدل جاتا ہے ۔ ہم تو ایک کیلے کے چھلکے سے پھسل کر عشق مصطفیٰؐ سے کوسوں دور جا گرتے ہیں ۔ ایک معصوم بچے کے کیلے چھیننے والے ڈھونگی تو ہو سکتے ہیں عاشق رسولؐ نہیں ۔
بابا جیونا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں