61

• • •کہانی لکھنے دو کہانی بننے دو • • • تحریر محمد زبیر مظہر پنوار

• • •کہانی لکھنے دو کہانی بننے دو • • •

ایک کہانی لکھنا چاہتا تھا جو زندہ رہے۔۔ مگر کوئی نہیں تھا۔۔
اب کوئی ہے تو میرے پاس لکھنے کو کہانی نہیں ہے ۔۔
میں دن بہ دن تڑپ رہا ہوں اور جل رہا ہوں ۔ میرے حواس کہیں، ہوش کہیں ، سمجھ نہیں آتی کیسے اور کہاں سے شروع کروں ۔۔ تم نہیں ہو ناں ۔۔ آہ ۔۔ اک میرے لکھنے کا جنون جو چاہتا ہے کہ میں لکھوں ۔۔ ایسا لکھوں کہ قرطاس پہ لفظوں کی روشنائی تمہارا ہی عکس بنا دے ۔ کیا ایسا ہو پائے گا مجھ سے نہیں معلوم ۔ ہاں مگر تم تو جانتی ہی ہو کہ میرے اعصاب کبھی نہیں تھکتے” میں ریزہ ریزہ یا چور چور ہو جانے والوں میں سے کبھی نہیں رہا ۔۔ سو’ جُتا ہوں ۔ اَٹا ہوں صرف تم کو لکھنے میں ۔
اور دوسری طرف تم ہو کہ میرے وجود کے عکس اور میرے لفظوں کے وجود کی منکر ہو کر بھی پگھل جاتی ہو ۔ آخر کیونکر جانے تم سنبھل نہیں پاتی ۔۔
خیر میری چھوڑو ۔ جانتی ہو تم کہ ہر صبح مجھ کو تمہارے لیے سورج کی طرح طلوع و غروب ہونا پڑتا ہے۔ کیسا نظام ہے یہ ۔ میں نہیں جانتا ” لیکن نظام کو بھی تو ہر حال چلانا ہی پڑتا ہے ۔ ہاں نظام ” ایسا نظام ” جس پہ ہمارا زندگی بھر بس نہیں چل نہیں پائے گا۔۔
سنو تم کبھی یہ مت بھولنا کہ ہم دونوں اسی نظام کا حصہ ہیں ۔۔ کیا کروں ہر روز ایک ہی طرف سے طلوع ہونا پڑتا ہے۔۔۔ یہ بھی یاد رکھنا کہ نظام روز روز نہیں بدلتے جب بن جائیں تو ۔۔۔
آہ ۔۔۔ کتنا اکیلا ہوں میں اور روز دیکھتا ہوں اپنے سامنے ہاں بالکل اپنے پاس” خوشی بھی ہے کہ مجھے غروب ہونے کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے ۔
ہاں ہاں معلوم ہے مجھ کو کہ تم جانتی ہو کہ میں کبھی اترنے والا نہیں ۔ بھلا کیوں ؟ .. کملی زرخیز مٹی میں ہریالی بہتے ندی نالے چشمے بہت خوبصورت لگتے ہیں ۔ اور مجھے میرا فرض بخوبی یاد ہے اور یاد رہ جائیگا کہ مجھے”بس دور سے تپش دینی ہے ۔۔
ہاں سنو ” تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہو گا کہ مجھے کبھی اترنے پہ مجبور نہ کرو گی ۔ یاد رکھنا جب کبھی میں تمہارے بلانے سے اتر آیا تو نظام بدل سکتے ہیں ۔ تباہی ہو سکتی ہے اور پھر وہ آخری دن ہو گا سب کچھ جل کر راکھ ہو جائیگا میرا اور تیرا ۔۔ یا پھر مجھے سائبیریا کے سمندروں کی برف تلے دب کر جم جانا پڑیگا ۔۔
لہذا بہتر یہی ہے کہ مجھے کہانی لکھنے دو ” اور کہانی بننے دو ۔۔
ہم دور سہی مگر ہماری کہانی میں ہم جی رہے ہیں ۔۔ اور پھر ہماری کہانی میں” میں نے کہیں نہیں لکھا کہ صرف سورج ہی مکمل کہانی ہوا کرتا ہے ۔
اچھا ” اچھا ۔ سنو بھی تو ” رات کا چاند دیکھو ۔۔ ارے جھلی سی ! چاند بھی تو کہانی کا حصہ ہوا کرتا ہے ۔

اب تذبذب میں مت رہنا وہ ابن انشاء کا شعر تو یاد ہو گا ہی تم کو کہ

جو جان لیے بن ٹل نہ سکے ، یہ ایسی بھی افتاد نہیں ..
یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں فرہاد نہیں ..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں