68

×حرام× تحریر محمدزبیر مظہر پنوار

مائیکروف
عنوان ۔۔ حرام
محمدزبیر مظہر پنوار

شہر میں مغربی و یورپی مصنوعات کے بائیکاٹ کے سلسلہ میں ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد و اہتمام کیا گیا تھا ۔ ملک بھر سے مختلف مکتبہ ء فکر کے علماء مشائخ اور واعظین تشریف لاچکے تھے ۔ لوگوں کا اک ہجوم اپنے اکابرین اور اسلاف کو دیکھنے اور سننے کے لیے جمع ہو چکا تھا ۔ کانفرنس کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں ۔ سٹیج کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا ۔ بیک سٹیج کو کلمہ شریف اور آیات مقدسہ کی تصاویر سے زیب و زبائش دی گئی تھی ۔ سٹیج پہ رکھے صوفوں اور کرسیوں پہ حضرات آتے گئے اور اپنی اپنی نشستوں پہ براجمان ہوتے جا رہے تھے ۔ایسا روح پرور نظارہ شاید ہی پہلے شہر کے لوگوں نے دیکھا ہو ۔ گویا یوں محسوس ہو رہا کہ اب امن و امان اخوت بھائی چارہ وجود میں آ چکا ۔ سٹیج پہ موجود حضرات ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اظہار یک جہتی اور اتحاد بین المسلمین کا عملی ثبوت تھے ۔ سٹیج سیکرٹری نے باقاعدہ محفل کا آغاز کیا ۔ تلاوت حمد و نعت شریف پڑھی گئی اور اسکے بعد باری باری تمام معززین کانفرنس کا تعارفی سلسلہ شروع ہوا ۔ ایک حضرت موچھوں کو تاؤ دے رہے تھے ساتھ میں بیٹھے حضرت دھاڑھی شریف میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ساتھ والے حضرت سے ہمکلام ہوئے جو تسبیح ہاتھ میں لیے منکے پہ منکا گرا رہے تھے ۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی گونج سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آج کفر کی دیواریں لرز جائیں گی ۔ زمین پھٹے گی اور کفار ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہو کر رہ جائینگے ۔ سٹیج سیکرٹری اب مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ کو خطاب کی دعوت دے رہا تھا ۔۔ باری باری سب ظاہری طور پر اتحاد و بین المسلمین کا واعظ اور نصیحت کا درس دینے کے ساتھ کفار کے کرتوتوں سے لوگوں کو آگاہ کرتا جاتا ۔ عوام میں مصنوعات کے بائیکاٹ بائیکاٹ کی صدائیں گونج رہیں تھی ۔۔ کہیں کوکا کولا ۔ پیپسی ۔ لیور برادر ۔ پی اینڈ جی وغیرہ جیسی کمپنیز کی مختلف مصنوعات کی توڑ پھوڑ جاری تھی تو کہیں آگ جلا کر مصنوعات کو دہکتے شعلوں کی دوزخ کے سپرد کیا جا رہا تھا ۔ سٹیج سیکرٹری نے سب کو خاموش ہو جانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ابھی دعا شروع ہونے والی ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے عالم اور اتحاد بین المسلمین کے صدر سٹیج پہ دعا کے لیے تشریف لائے ۔ مشرکین و کفار کے خلاف اچھی طرح سے بھڑاس نکالنے کے بعد بددعا کرنی شروع کی کہ یااللہ مشرکین اور کفار کو برباد کر دے ۔ جیسے جیسے الفاظ بڑھتے گئے مولانہ صاحب کا والیم بھی بڑھتا گیا ۔ اچانک انکا حلق خشک ہو گیا ۔ ساتھ میں بیٹھے علماء نے کہا کہ مولانہ صاحب کو جلدی سے پانی دو ۔ حضرت نے نیسلے کی بوتل سے پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا آج کے بعد آپ سب مسلمانوں پہ کافروں کی مصنوعات کا استمعال حرام ہے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں