80

کتا” ریل گاڑی اور سٹیشن ماسٹر تحریر ۔۔محمدزبیرمظہرپنوار

ریل گاڑی اپنے معمول کی رفتار پکڑے منزل کی طرف رواں دواں تھی ۔ ریل گاڑی کے مختلف ڈبوں اور بوگیوں میں طرح طرح کے مسافر سوار تھے جو ہر لحاظ سے دنیا سے بےنیاز اور بیزار تھے ۔ انہیں نہ تو دنیاداری آتی تھی نہ ہی خلاؤں میں تیر چلانا ۔ حقیقتوں کو لکھنے پڑھنے سمجھنے سمجھانے والے خالص لوگ ہی اس خاص ٹرین میں سوار ہونے کا حق رکھتے تھے ۔ کیونکہ انکا ساری زندگی ماحول علمی و ادبی رہا تھا ۔ مقدس رہا تھا ۔ بلکل خدا کی بنائی ہوئی فطرت کے تابع و قریب تر ۔ یا یوں کہہ لیں کہ یہ سوار دنیاداری کی نحوستوں اور نجاستوں سے دور تھے۔ مسافر ہر حال کسی بھی ناگہانی بدانتظامی جھوٹ مکر فریب سے بچ کر رہنا چاہتے تھے ۔
کئی سٹیشن آئے اور گزر گئے ۔ ایک جگہہ ٹرین رکی تو ایک نجس کتے نے ٹرین میں گھسنے کی کوسش کی ۔ سٹیشن ماسٹر نے ٹرین کو پھر سے چلنے کے لیے ہری جھنڈی دکھائی ۔ جھنڈی دکھا کر سٹیشن ماسٹر بھاگا ۔ اس سے پہلے کہ ٹرین اپنی رفتار پکڑتی اس نے نجس کتے کو وقت پہ دبوچ کر پٹڑی سے دور پھینک دیا ۔ بظاہر تو کتے کو چوٹ نہ لگی مگر اندر سے کتے کا کتا پن باہر نکلا اور اس نے جو بھونکنا شروع کیا کہ لوگوں کے لیے وبال جان کی سی کیفیت بن گئی ۔ کتا سمجھا شاید لوگوں کا شور اسکی ہمدردی میں ہے مگر لوگ تو کتے کی نحوست اور نجاست سے چھٹکارہ چاہتے تھے ۔ خیر کتا تھا تو کتے پن میں اسکی عقل بھی کتا ہو چکی تھی ۔ دور کھڑے چٹی دلال یہ نظارا دیکھ رہے تھے ان چٹی دلالوں کے ساتھ چند بھانڈ اور میراثی بھی تھے ۔ وہ سب دوڑے اور کتے کی مدد کو آن پہنچے ۔ اور آتے ہی سٹیشن ماسٹر کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا ۔۔
سٹیشن ماسٹر نے کہا کہ سنیے بھی تو آپ سب بھانڈ میراثی اور عزت مآب چٹی دلال بخوبی جانتے ہیں کہ متعلقہ ٹرین جو گزری چکی آپکی سواری کے لیے نہیں تھی اسی لیے آپ نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرین پہ سوار ہونے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ مگر اس کتے کے کتے پن کو کون سمجھائے کہ ہر ٹرین یا گاڑی سرکاری نہیں جو کتے پکڑے یا پٹے پہنا کر سوار کرے ۔ شرفاء وہ نہیں جو کتے پالیں کچھ تو مقدس و نجس میں فرق کیا ہوتا تمیز کی ہوتی ۔ غلطی آپ کے کتے کی ہے ۔۔ بھانڈ میراثی اور چٹی دلال سٹیشن ماسٹر کی بات سمجھ گئے اور اپنے گھروں کو ہو لیے ۔ مگر سٹیشن پہ کھڑا کتا آج بھی ٹرینوں اور لوگوں پہ بھونکتا رہتا ہے جبکہ سٹیشن ماسٹر کتے کو روز دھتکارتا رہتا ہے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں