37

مائیکروفنکشن. احمد نعیم

غموں کے بغیر زندگی

کئ دہائیوں سے اس کے بدن میں یہ کیلیں نہ جانے کیسے بار بار اگ آتی :ہر کیل میں نیا کرب کیلیں اگتی اور گر جاتی ، پھر انہی جگہوں پر یہ دوبارہ اگ آتیں ، اسے کچھ خبر نہ ہوتی
وہ تو بس کئی دہائیوں سے کسی طرح بیدار کھڑا تھا کسی کیل میں درد کم ہوتا کسی میں بہت زیادہ.،، کچھ تو وہ برداشت کرلیتا اور کچھ اسے بے حال کردیتیں…… مگر اسے کچھ خبر نہ ہو پاتی کیونکہ اس کی پوری توجہ صرف کھڑے رہنے پر ہوتی،، کھڑے رہنے کی اذیت میں وہ ان کربناک کیلوں سے ہونے والے درد، ٹھیس، کرب، غم ، تکلیف، ، دکھ صدمہ؛ رنج و الم، پریشانی سے بے خبر ہی رہتا حالانکہ درد کی شدت اس کے وجود میں کچوکے مار رہی ہوتی.. کھڑے رہنا شاید اس کے مقدر میں “ٹھونک” دیا گیا تھا، حالانکہ ان عرصوں میں وہ کئی مرتبہ بیٹھا؛ پر بیٹھنا اسے کب راس آنا.
برسوں سے اس کی یہی تمنا رہی کہ وہ بیٹھ جائے
آج ہر کیل سے نکلنے والے درد کی شدت کچھ زیادہ ہی شدید تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی کہ وہ برداشت نہ کرپاتا، مگر کئی دنوں سے اس کے اعصاب میں دفاعی طاقت کم لگ رہی تھی وہ بدستور بیداری کے ساتھ بے خبری میں کھڑا تھا مگر آج درد کے کچوکے ہتھوڑے کی مار کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ آج وہ درد سے با خبر ہوا بیٹھنے کی تمنا اب اسے زندگی کی. ضرورت محسوس ہورہی تھی حالانکہ کھٹرے رہنا بھی زندہ رہنے اور رکھنے کیلئے ضروری تھا، مگر آج وہ بیٹھنے کا شدید خواہش مند تھا
جب کبھی وہ بیٹھتا تو وہ کیلیں اس کے بدن سے غائب ہو جاتیں،، کھڑا ہوتا تو یہی کیلیں درد کے ساتھ دوبار نمودار ہو جاتیں _ بیٹھنے پر نہ کیلیں ہوتی نہ درد وہ بیٹھنے کے کم وقفے میں بھی کئی دہائیاں خوشحالی سے جی لیتا،
آج بھی وہ کچھ دیر کے لئے خوشحال زندگی کا لطف لینا چاہتا تھا..، آج وہ برسوں بعد شدید چاہت لے کر بیٹھ ہی گیا، مگر پہلے کی طرح اس کے بیٹھنے پر اسے کوئی لطف نہیں آرہا تھا _ہاں مگر ____________غم بھی نہیں تھے نہ ہی کیلیں وہ اب غموں کی بجائے خوشی اور مسرت سے بے خبر تھا خوشی پر تو اس کی توجہ نہیں گئی ۔۔۔۔ ہاں مگر اسے غموں کا خیال ضرور آیا؛ وہ خوشی کے بغیر تو برسوں سے جی رہا تھا ؛ مگر آج اسے غموں کے بغیر بیٹھنے کے لمحات بے چین کر رہے تھے؛ وہ اپنی بیٹھنے کی تمنا بھول گیا اور ایک ہی جھٹکے میں کھڑا ہوگیا، اسے انتظار……. ان کیلوں کا ان سے ہونے والے درد کا

***

کرچی کرچی وجود

صدیوں سے بل کھاتی، سر پٹکتی شور برپا کرتی، موجوں نے بے شمار سر اٹھاے ٹیلوں کو مسمار کرتے اپنی آوارہ دھن میں بہتے ہوئے نامعلوم کی طرف سفر جاری رکھا، موجوں کے اس ہجوم سے اک قطرے نے اپنی الگ شناخت بنانے اور اپنے وجود کو جاننے کی کوشش میں ان سر پھری موجوں سے الگ ہو بیٹھا ۔۔۔
ابھی وہ خود کو ہی نظر بھر دیکھ ہی نہ پایا تھا کہ اک ٹیلے سے ٹکرا گیا اب وہ اپنے وجود کی سیکڑوں کرچیوں کو بکھرتے ہوئے لہولہان آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

***

مسافر راستے میں ہے
کتنا تنہا تھا میں
جب آنکھیں وا ہوئی تھی
مجھے اس کا قرب بھی حاصل تھا… پھر اچانک ہی میرے جسم کو تنہائی کا احساس ہونے لگا
اور اس نے میرے ہی جسم سے ایک اور جسم پیدا کیا
اب میں تنہا نہیں تھا
اب وہاں دو جسم تھے
لیکن اچانک مجھے کیا ہوا… تھا
یہ کیا ہوا تھا میرے لئے آج بھی معمہ بنا ہوا ہے
ہاں یاد ہے مجھے، مجھ میں اک تجسس تھا
نہ معلوم کو معلوم کرنے کا
راکھ کریدنے لگا میں ۔۔۔
خود کو دیکھنے کا اشتیاق بھی مار ڈالتا ہے ۔۔۔
اور وہی ایک غلطی ہاں صرف اک غلطی نے مجھے میرے پہلے گھر سے نکال پھینکا کیا… سیکڑوں صدیاں گزر گئیں آج بھی میں اپنے پہلے گھر کے سفر میں ہوں

***

تپش سیاہی اور وہ گھوڑا
اس کے خون میں زہر، دماغ میں جلتا ہوا لاوا،دل میں سیسہ بھر دیا گیا تھا ۔
پرتپش خیالات ، اس کی گرمی ،رگوں میں کار تریاقی کرتا زہر رنگ لہو،شفاف دل کی امنگیں اور خیالات کی گرمی لوگوں پر پڑتی، جس سے لوگ تو حرارت پا جاتے ٗمگر وہ تپش دیتے دیتے دھیرے دھیرے سرد ہورہا تھا ۔لہو کا رنگ اب کالا پڑنے لگا تھا شفاف دل پر اب دھندلکا چھانے لگا تھا لوگوں کو تپش برابر مل رہی تھی
مگر اب وہ یخ بستہ ہوتا جارہا تھا لہو اب سیاہ ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑھا بھی زیادہ ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔آئینے کی شفافیت اب با لکل ختم ہونے والی تھی
تپش دینے میں کمی نہیں آئی ۔۔
مائنَس ۔۔۔مائنَس پلس ہو رہا تھا
مکمل یخ بستگی چھا گئی، سیاہ لہو کالے صابن کی طرح جم گیا شفافیت نے اندھیرا اوڑھ لیا، اب اس کی سیاہی، تپش اور شفافیت کے امتزاج نے اسے ”*اسٹیچیو* “ بنا دیا
گزرنے والوں کو تپش مل رہی تھی بھری بارش میں بھی، سردیوں میں بھی، گرمیوں میں بھی۔۔۔
آخر پتلا گرا دیا گیا ، اب وہاں دوڑتے ہوئے گھوڑے کا مجسمہ بننے والا ہے۔

***

بھرم کترا
وہ جب بھی پاکٹ مارتا تو بڑا عیش کرتا. حالانکہ کہ اسے احساس ہوتا کہ اس نے جس کی پاکٹ ماری ہے وہ کتنا پریشان ہوتا ہوگا.
مگر وہ کیا کرے اس کی عادتیں اسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتیں
مگر وہ بڑا ذہین بھی تھا
مگر آج نہ جانے کیوں اک پاکٹ اچکنے کے بعد اس کے چہرے پہ پڑی رنجیدگی چھائی رہی.
ریلوے پلیٹ فارم کے ٹیبل پر وہ ہاتھوں سے سر کو پکڑ ے اندر ہی اندر نادم ہورہا تھا.
آنکھیں خود پر طیش کھانے سے لال ہوگی تھیں
دراصل آج کے پاکٹ میں تھوڑی رقم کے ساتھ ایک چٹھی تھی جس پر تحریر تھا
“پیاری بد قسمت پارو میں خودکشی کررہا ہوں. برسوں تم سے دوری بنائے بناے میں کہاں کہاں رہا یہ چھٹی روانہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم پریشان نہ ہو سکو
میں زندہ ہوں یا ______مر گیا _________مجھے معاف کرنا،”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں