155

پولیس کی کارکردگی۔۔۔!

کل رات 2 بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ جوکہ مین گیٹ پر ہو رہی تھی۔ چونکہ گھر کا بیرونی دروازہ دو الگ گھروں کا مشترک ہے اس لئے پہلے تو یہ سوچ کر دستک کو اگنور کردیا کے ساتھ والے گھر کا کوئی فرد ہوگا۔ لیکن جب تین چار دفہ مسلسل دستک ہوِئی تو گھر کا اندرونی دروازہ کھول کر دیکھا تو بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا۔ جب باہر جھانکا تو پولیس کی وین کھڑی تھی۔ جس میں اے ایس آئی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا اور ایک کانسٹیبل ہاتھ میں بندوق تھامے دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا تو کانسٹیبل مخاطب ہوا کہ رات بہت ہوگئی ہے دروازہ بند کر لیں کہیں کوئی چور نہ اندرگھس جائے۔ یہ کہہ کر وہ وین میں بیٹھا اور گاڑی آگے کیطرف بڑھ گئی۔ لیکن میں کھڑا گاڑی کو کچھ دیر دیکھتا رہا اور چوچ رہا تھا کہ اگر پولیس کی جگہ کوئی چور اچکا ہوتا اور گیراج میں کھڑی ہمسایوں کی کار لے جاتا یا گیراج میں لگے واٹر پمپ کو چرا لیتا تو یہ بات کل سوشل میڈیا کی زینت بنی ہونی تھی اور ہر شخص پولیس کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھا رہا ہوتا اخبار میں کالم چھپا ہوتا اور میڈیا رپورٹر اس بات کو بھرپور کوریج دے رہے ہوتے لیکن غلطی کس کی تھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کرنی تھی۔۔۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں