109

۔تم مجھے بہت یاد آتی ہو ۔ تحریر بابا جیونا

میں بچپن سے ہی اکیلا تھا ،بس فٹ بال ایتھلیٹکس اور کتابیں ،کبھی احساس ہی نہیں ہو ا تھا کہ تنہائی کیا ہوتی ہے ،کسی کا ساتھ کیا ہوتا ہے ،کئی یار بیلی لنگوٹیے سجن دوست ہمجولی تھے مگر کسی کے ہونے نا ہونے سے کبھی فرق ہی نہیں پڑا تھا ،جس دن سے تم ملی اور مل کے بچھڑ گئی تو احساس ہو ا اکیلا پن کیا ہوتا ہے ،احساس ہو ا کہ ایک چھوٹا سا بچہ جب کہیں رش میں کسی اپنے سے بچھڑ جاتا ہے تو وہ کیوں ہر طرف انسانوں کا ہجوم ایک جمِ غفیر ہونے کے با و جود خود کو اکیلا ،بے یارو مدد گار بے کس و لا چار پاتا ہے کیوں دھاڑیں مار مار کے روتا ہے ،مجھے احساس ہوا کہ کسی کے ہونے یا نا ہونے سے فرق کیسے پڑتا ہے ،سو کھے کے موسم جاڑے اور بارانِ رحمت کا فرق کیا ہوتا ہے ،پت جھڑ او ر بہار کیا ہوتی ہے ،اندھیرے میں روشنی کیوں اتنی اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے ،تاریک وادیوں میں بھنبھناتے ٹمٹماتے جگنو کیوں بھلے لگتے ہیں ،پھول کلیوں سے سجے باغ لہلا تے پیڑ پودے سر سبز خوشبوﺅں سے معطر وادیاں لق و دق صحرا کیوں لگنے لگتی ہیں، شام کے وقت نیلگوں آ سمانوں میں سرسوں کی کلیوں کی تازہ کھلتی پتیوں کی سی پھیلتی پیلی موہنی رنگت کسی وِ دوا کی اجڑی مانگ کی طرح ویران کیوں لگنے لگتی ہے ،موسمی گیتوں کی اور برساتی جھرنوں کی قدرتی دُھنیں کسی نوحہ خواں کی اداسیاں بکھیرتی صدا کیوں معلوم ہوتی ہے ، سرد موسموں میں کسمساتی ہوا ﺅں کا ترنم کسی کہنہ بوسیدہ عمارت میں مقیم چمگادڑوں کی بے ہنگم چوں چوں جیسا کیوں لگتا ہے، آموں کے موسم میں پیڑوں پہ نکلتے بور کی مہک سے جھومتی کوئل کی کوک ہجر فراق میں جلتے پپیہے کی فریاد کیوں لگنے لگتی ہے، د ن اور راتیں کسی الہڑ مٹیار کے ٹٹار دوپہر جیسے اجلے اجلے پاکیزہ اور ڈھلتے حسن پہ سر نکالتی سلوٹوں جیسے کیوں لگنے لگتے ہیں ِقدرت کا حسین کرشمہ آنکھیں کیو ں اپنی تمام تر رعنائیاں اور چمک کھودیتی ہیں بالکل ایک ندیدے اور باچھیں پھاڑ پھاڑ کے روتے بچے کی طرح ماتم کرتی آپے سے باہر ہو جاتی ہیں اور فلک بوس پہاڑوں سے نکلتی کسی جھیل کی طرح بہنا شروع کردیتی ہیں،کس طرح ایک جیتا جاگتا انسان اپنی لاش کا تا بوت اٹھائے شب و روز کی کشمکش میں الجھا رہتا ہے ، مجھے اندازہ ہوا جسم میں روح کی اوقات کیا ہے ،جب زندہ جسم سے سانس اپنا رابطہ منقطع کرتی ہے تو درد کیوں ہوتا ہے روح اور جسم کے درمیان جب پھوٹ پڑ جاتی ہے تو ایک خوبصورت توانا اور صحت مند جسم تعفن زدہ کیسے ہوجاتا ہے ،دنیا کی ہر آسائش اللہ کی تمام نعمتوں کے میسر ہونے کے باوجود کاروبار زندگی کیسے رک جاتا ہے ،دنیا کسی خانہ بدوش کا قافلہ کیو ں لگنے لگتی ہے، میری اس ساری کوشش تحریر اور کا غذ پہ رینگتے قلم کا مقصد صر ف یہ کہنا ہے کہ تم مجھے بہت یاد آتی ہو ،اوہ میری راوی کی گائے تم مجھے بہت یاد آتی ہو،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں