119

شہاب ثاقب

آئیڈیل ںیوز:- خلائی پتھر لوہے یا نکل وغیرہ کے بنے ہوتے ہیں ، نظام شمسی میں مریخ اور مشتری کے مدار کے درمیان چکر لگانے والے خلائی پتھروں کو ’’ سیارچے ‘‘ (Asteroids) کہا جاتا ہے ۔ یہ سیارچے بعض اوقات زمین کی طرٖف آجاتے ہیں اور زمین کی فضا سے رگڑ کھانے سے ان میں اتنی حرارت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ جل کر راکھ ہوجاتے ہیں اور اس کی روشنی ہمیں نظر آتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ’’وہ تارہ ٹوٹا۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ زمین کی فضا سے رگڑ کھانے والے اس خلائی پتھر کو ’’ شہاب ثاقب ‘‘ (Meteor) کہتے ہیں ۔
زمین پر ہر وقت شہابی پتھروں کی بارش ہوتی رہتی ہے اگر تمام خلائی پتھر زمین پر گرنے لگیں تو زمین پر بڑی تباہی آسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے زمین کی فضا کو ایسا بنا دیا ہے کہ وہ ان خلائی پتھروں کو زمین پر گرنے سے روکتی ہے اور زمین بڑی تباہی سے بڑی حد تک محفوظ ہوجاتی ہے ۔
بعض اوقات یہ خلائی پتھر زمین کی فضا میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ایسے سینکڑوں واقعات رونما ہوئے ہیں
جیسے 15 فروری 2013 کو روس میں شہابی پتھروں کے بہت سے ٹکڑے گرے تھے اس واقعے میں 1000 افراد زخمی ہوئے تھے۔
زیر نظر تصویر میں ایک بڑا شہابی پتھر ہے جو 1905 میں زمین پر پایا گیا ..اس کا وزن 15 ٹن ہے اور یہ 10 فٹ لمبا ہے. یہ شہابی پتھر نیویارک میں American museum of Natural History نامی عجائب گھر میں موجود ہے.
اس شہابی پتھر کا نام Willamette Meteorite رکھا گیا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں